آبرو ریزی

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - ذلت، رسوائی، عصمت و عفت کی بربادی۔ "ماں اور بہن کی بےحرمتی اور آبرو ریزی کی۔"      ( ١٩١٣ء، انتخاب توحید، ٢٤ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'آبرو' کے بعد فارسی مصدر 'ریختن' سے فعل امر 'ریز' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگا کر مرکب بنا۔ اردو میں بطور فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨١٦ء کو "دیوان ناسخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ذلت، رسوائی، عصمت و عفت کی بربادی۔ "ماں اور بہن کی بےحرمتی اور آبرو ریزی کی۔"      ( ١٩١٣ء، انتخاب توحید، ٢٤ )

جنس: مؤنث